(۳۶۴۴۳) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا جُوَیْبِرٌ ، عَنِ الضَّحَّاکِ ، قَالَ : کَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَی أَبِی مُوسَی : أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ الْقُوَّۃَ فِی الْعَمَلِ أَنْ لاَ تُؤَخِّرُوا عَمَلَ الْیَوْمِ لِغَدٍ فَإِنَّکُمْ إذَا فَعَلْتُمْ ذَلِکَ تَدَارَکَتْ عَلَیْکُمَ الأَعْمَالُ فَلَمْ تَدْرُوا أَیُّہَا تَأْخُذُونَ فَأَضَعْتُمْ ، فَإِذَا خُیِّرْتُمْ بَیْنَ أَمْرَیْنِ أَحَدُہُمَا لِلدُّنْیَا وَالآخَرُ لِلآخِرَۃِ فَاخْتَارُوا أَمْرَ الآخِرَۃِ عَلَی أَمْرِ الدُّنْیَا ، فَإِنَّ الدُّنْیَا تَفْنَی ، وَإِنَّ الآخِرَۃَ تَبْقَی ، کُونُوا مِنَ اللہِ عَلَی وَجَلٍ وَتَعَلَّمُوا کِتَابَ اللہِ فَإِنَّہُ یَنَابِیعُ الْعِلْمِ وَرَبِیعُ الْقُلُوبِ۔
(٣٦٤٤٣) حضرت ضحاک سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے حصرت ابوموسیٰ کو تحریر فرمایا : اما بعد ! بیشک عمل میں قوت ہے۔ تم آج کا کام کل پر نہ چھوڑنا۔ کیونکہ تم جب اس طرح کرو گے تو بہت سے اعمال تمہارے اوپر جمع ہوجائیں گے۔ تمہیں پتہ نہیں چلے گا کہ تم ان میں سے کس کو لو۔ پھر تم ضیاع کرو گے۔ پس جب تمہیں دو کاموں کے درمیان اختیار دیا جائے۔ ان میں سے ایک دنیا کے لیے ہو۔ اور دوسرا آخرت کے لیے ہو۔ تو تم آخرت کے کام کو دنیا کے کام پر ترجیح دو ۔ کیونکہ دنیا فانی ہے اور آخرت باقی ہے اور تم اللہ کی طرف سے خوف پر رہو۔ اور تم اللہ کی کتاب سیکھو۔ کیونکہ وہ علم کے چشمے ہیں اور دلوں کی بہار ہے۔