(۳۶۴۵) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ : جَلَسْت إلَی رَہْطٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنَ الأَنْصَارِ ، فَذَکَرُوا الصَّلاَۃَ وَقَالُوا : لاَ صَلاَۃَ إِلاَّ بِقِرَائَۃٍ وَلَوْ بِأُمِّ الْکِتَابِ ، قَالَ خَالِدٌ : فَقُلْتُ لِعَبْدِ اللہِ بْنِ الْحَارِثِ : ہَلْ تُسَمِّی مِنْہُمْ أَحَدًا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، خَوَّاتُ بْنُ جُبَیْرٍ۔
(٣٦٤٥) حضرت عبداللہ بن حارث کہتے ہیں کہ میں کچھ انصاری صحابہ کے ساتھ بیٹھا تھا۔ انھوں نے نماز کا ذکر کیا اور کہا کہ قراءت کے بغیر نماز نہیں ہوتی خواہ آدمی سورة الفاتحہ کی ہی تلاوت کرلے لیکن کرنی ہوگی۔ راوی حضرت خالد کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن حارث سے کہا کہ کیا آپ ان میں سے کسی کا نام بتاسکتے ہیں ؟ انھوں نے فرمایا ہاں، خوات بن جبیر۔