(۳۶۵۰) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ أَبِی الْعَالِیَۃِ الْبَرَّائِ ، قَالَ : قُلْتُ لابْنِ عُمَرَ : أَفِی کُلِّ رَکْعَۃٍ أَقْرَأُ ؟ فَقَالَ : إنِّی لأَسْتَحِیی مِنْ رَبِّ ہَذَا الْبَیْتِ أَنْ لاَ أَقْرَأَ فِی کُلِّ رَکْعَۃٍ بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ ، وَمَا تَیَسَّرَ ۔ وَسَأَلْت ابْنَ عَبَّاسٍ ؟ فَقَالَ : ہُوَ إمَامُک ، فَإِنْ شِئْتَ فَأَقِلَّ مِنْہُ ، وَإِنْ شِئْتَ فَأَکْثِر۔
(٣٦٥٠) حضرت ابو العالیہ براء کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر سے کہا کہ کیا میں ہر رکعت میں قراءت کروں ؟ انھوں نے فرمایا کہ مجھے اس گھر کے رب سے شرم آتی ہے کہ میں ہر رکعت میں سورة الفاتحہ اور اس کے بعد جو آسان لگے اس کی تلاوت نہ کروں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس سے سوال کیا تو انھوں نے فرمایا کہ وہ تمہاری مرضی ہے، چاہو تو اس سے کم تلاوت کرو اور چاہو تو اس سے زیادہ کرلو۔