(۳۶۵۰۴) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ ، قَالَ : یَقُولُ ، یَعْنِی اللَّہَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی : مَا بَالُ أَقْوَامٍ یَتَفَقَّہُونَ بِغَیْرِ عِبَادَتِی ، یَلْبَسُونَ مُسُوکَ الضَّأْنِ وَقُلُوبُہُمْ أَمَرُّ مِنَ الصَّبِرِ ، أَبِی یَغْتَرُّونَ أَمْ إیَّایَ یَخْدَعُونَ فَبِی حَلَفْت لأُتِیحَنَّ لَہُمْ فِتْنَۃً فِی الدُّنْیَا تَدَعُ الْحَلِیمَ مِنْہُمْ حَیْرَاناً۔ (ابن المبارک ۵۰)
(٣٦٥٠٤) حضرت ابو عبیدہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان لوگوں کو کیا ہواجومیری عبادت کے بغیر سمجھدار بننا چاہتے ہیں ؟ وہ بھیڑ کی کھال اوڑھتے ہیں لیکن ان کے دل ایلوے (ایک کڑوا پھل) سے زیادہ کڑوے ہیں۔ کیا وہ میری وجہ سے دھوکے میں ہیں یا مجھے دھوکا دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ میں اپنی قسم کھا کر کہتاہوں کہ میں انھیں دنیا میں ایسے فتنے میں مبتلا کروں گا جو ان میں سے بردبار کو بھی حیران و سرگرداں کردے گا۔