(۳۶۵۰۸) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الأَعْلَی التَّیْمِیَّ یَقُولُ : مَنْ أُوتِیَ مِنَ الْعِلْمِ مَا لاَ یُبْکِیہِ لخَلِیقٌ أَنْ لاَ یَکُونَ أُوتِیَ عِلْمًا یَنْفَعُہُ، لأَنَّ اللَّہَ نَعَتَ الْعُلَمَائَ، ثُمَّ قَرَأَ إِلَی قَوْلِہِ {یَبْکُونَ}۔ (ابن المبارک ۱۲۵)
(٣٦٥٠٨) حضرت ابو عبیدہ تیمی فرماتے ہیں کہ جسے وہ علم دے گیا جو اسے رونے پر نہ ابھارے وہ اس لائق ہے کہ اس کے بارے میں کہا جائے کہ اسے علم نافع عطا نہیں ہوا۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے علماء کی تعریف فرمائی ہے۔ پھر یہ آیت تلاوت فرمائی { اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِہٖٓ اِذَا یُتْلٰے عَلَیْھِمْ یَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًا٭ وَّ یَقُوْلُوْنَ سُبْحٰنَ رَبِّنَآ اِنْ کَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًا٭ وَ یَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ یَبْکُوْنَ }