(۳۶۵۲۳) حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ شُرَحْبِیلَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا لَیْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عُقَیْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ ، قَالَ : جَلَسْت ذَاتَ یَوْمٍ إِلَی أَبِی إدْرِیسَ الْخَوْلاَنِیِّ وَہُوَ یَقُصُّ ، فَقَالَ : أَلاَ أُخْبِرُکُمْ بِمَنْ کَانَ أَطْیَبَ النَّاسِ طَعَامًا ، فَلَمَّا رَأَی النَّاسَ قَدْ نَظَرُوا إلَیْہِ ، قَالَ : إنَّ یَحْیَی بْنَ زَکَرِیَّا کَانَ أَطْیَبَ النَّاسِ طَعَامًا ، إنَّمَا کَانَ یَأْکُلُ مَعَ الْوَحْشِ کَرَاہِیَۃَ أَنْ یُخَالِطَ النَّاسَ فِی مَعَائِشِہِمْ۔
(٣٦٥٢٣) حضرت ابن شہاب فرماتے ہیں کہ ایک دن میں حضرت ابو ادریس خولانی کی مجلس میں بیٹھا وہ کوئی واقعہ بیان کررہے تھے۔ انھوں نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں اس شخص کے بارے میں نہ بتاؤں جس کا کھانا تمام لوگوں میں زیادہ پاکیزہ تھا ؟ جب لوگوں نے ان کی طرف دیکھا تو فرمانے لگے کہ حضرت یحییٰ بن زکریا کا کھانا تمام لوگوں میں سب سے زیادہ پاکیزہ تھا۔ وہ تنہائی میں کھاتے تھے کیونکہ انھیں یہ بات پسند نہ تھی کہ وہ لوگوں کے ساتھ ان کی زندگی میں شریک ہوں۔