(۳۶۵۷۳) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ مَالِکِ بْنِ مِغْوَلٍ ، عَنْ أَبِی مَنْصُورٍ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ وَہْبٍ ، قَالَ : خَرَجْت إِلَی الْجَبَّانَۃِ فَجَلَسْت فِیہَا إِلَی جَنْبِ ْحَائِطٍ ، فَجَائَ رَجُلٌ إِلَی قَبْرٍ فَسَوَّاہُ ، ثُمَّ جَائَ فَجَلَسَ إلَی ، فَقُلْتُ : مَنْ ہَذَا ، فَقَالَ : أَخِی ، قَالَ : قُلْتُ : أَخٌ لَک ، قَالَ : أَخٌ لِی فِی الإِسْلاَمِ رَأَیْتہ الْبَارِحَۃَ فِیمَا یَرَی النَّائِمُ ، فَقُلْتُ : فُلاَنٌ قَدْ عِشْت الْحَمْدُ لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ ، قَالَ : قَدْ قُلْتہَا ، لأَنْ أَکُونَ أَقْدَرَ عَلَی أَنْ أَقُولَہَا أَحَبُّ إلَیَّ مِنْ مِلْئِ الأَرْضِ ، وَمَا فِیہَا ، أَلَمْ تَرَ حِینَ کَانُوا یَدْفِنُونَنِی فَإِنَّ فُلاَنًا قَامَ فَصَلَّی رَکْعَتَیْنِ لأَنْ أَکُونَ أَقْدَرَ عَلَی أَنْ أُصَلِّیَہُمَا أَحَبُّ إلَیَّ مِنَ الدُّنْیَا ، وَمَا فِیہَا۔
(٣٦٥٧٣) حضرت زید بن وہب فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ قبرستان گیا اور ایک دیوار کے ساتھ بیٹھ گیا۔ اتنے میں ایک آدمی آیا اور اس نے ایک قبر کو سیدھا کیا اور پھر میرے پاس بیٹھ گیا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ یہ کس کی قبر ہے ؟ اس نے بتایا کہ یہ میرے بھائی کی قبر ہے۔ میں نے کہا کہ تمہارے بھائی کی ؟ اس نے کہا کہ یہ میرا اسلامی بھائی ہے۔ میں نے اسے رات کو خواب میں دیکھا اور میں نے اس سے کہا کہ اے فلاں تو زندہ رہے ! تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں۔ اس نے کہا کہ تو نے جو جملہ کہا ہے، اگر میں اس کے کہنے پر قادر ہوجاؤں تو یہ کہنے کے لیے ساری زمین بھی صدقہ کرنا پڑے تو صدقہ کردوں۔ کیا تم نے دیکھا کہ جب لوگ مجھے دفن کررہے تھے تو ایک آدمی نے کھڑے ہو کر دو رکعت نماز پڑھی تھی۔ اگر مجھے وہ دو رکعت پڑھنے کی قدرت مل جائے تو وہ مجھے دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے سب سے زیادہ محبوب ہوگا۔