(۳۶۵۷۷) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ أَبِی سِنَانٍ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیِّ ، قَالَ : إنَّ الْمَلَکَ یَجِیئُ إِلَی أَحَدِکُمْ کُلَّ غَدَاۃٍ بِصَحِیفَۃٍ بَیْضَائَ فَلْیُمْلِ فِیہَا خَیْرًا ، فَإِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَلْیُقِمْ لِحَاجَتِہِ ، ثُمَّ إذَا صَلَّی الْعَصْرَ فَلْیُمْلِ فِیہَا خَیْرًا فَإِنَّہُ إذَا أَمْلَی فِی أَوَّلِ صَحِیفَتِہِ وَآخِرِہَا خَیْرًا کَانَ عَسَی أَنْ یُکفی مَا بَیْنَہُمَا۔
(٣٦٥٧٧) حضرت ابو عبد الرحمن سلمی فرماتے ہیں کہ ہر صبح فرشتہ تمہارے پاس سفید نامہ اعمال لے کر آتا ہے اور اس میں خیر لکھواتا ہے، جب سورج طلوع ہوجاتا ہے تو وہ اپنی حاجت کے لیے اٹھ جاتا ہے اور جب وہ عصر کی نماز پڑھ لیتا ہے تو اس میں خیر لکھواتا ہے، پس جب اعمال نامے کے شروع اور آخر میں خیر ہو تو امید ہے کہ ان دونوں حصوں کی خیر درمیانی حصے کو بھی کفایت کرجائے گی۔