(۳۶۵۸۳) حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِیفَۃَ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ شَدَّادٍ ، أَنَّ ہَرِمَ بْنَ حَیَّانَ الْعَبْدِیَّ لَمَّا نَزَلَ بِہِ الْمَوْتُ ، قَالُوا : لَہُ : یَا ہَرِمُ، أَوْصِنی، قَالَ: أُوصِیکُمْ أَنْ تَقْضُوا عَنِّی دَیْنِی، قَالُوا: بِمَ تُوصِی، قَالَ: فَتَلاَ آخِرَ سُورَۃِ النَّحْلِ {ادْعُ إِلَی سَبِیلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ} حَتَّی بَلَغَ {إنَّ اللَّہَ مَعَ الَّذِینَ اتَّقَوْا وَالَّذِینَ ہُمْ مُحْسِنُونَ}۔
(٣٦٥٨٣) حضرت عون بن شداد کہتے ہیں کہ جب ہرم بن حیان عبدی کے وصال کا وقت آیا تو لوگوں نے ان سے کہا کہ اے ہرم ! وصیت فرما دیجئے۔ انھوں نے کہا کہ میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ تم میرا قرض ادا کردینا۔ پھر لوگوں نے کہا کہ آپ ہمیں کیسے زندگی گزارنے کی وصیت کرتے ہیں ؟ انھوں نے سورة النحل کی { ادْعُ إِلَی سَبِیلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ } سے لے کر {إنَّ اللَّہَ مَعَ الَّذِینَ اتَّقَوْا وَالَّذِینَ ہُمْ مُحْسِنُونَ } تک تلاوت فرمائی۔