hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 36584

.

ابن أبي شيبة

36584
Ibn Abi Shaybah
(۳۶۵۸۵) حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِیفَۃَ، عَنْ أَصْبَغَ الْوَرَّاقِ، عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ ، أَنَّ عُمَرَ بَعَثَ ہَرِمَ بْنَ حَیَّانَ عَلَی الْخَیْلِ، فَغَضِبَ عَلَی رَجُلٍ فَأَمَرَ بِہِ فَوُجِئَتْ ، عُنُقُہُ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَی أَصْحَابِہِ، فَقَالَ: لاَ جَزَاکُمَ اللَّہُ خَیْرًا، مَا نَصَحْتُمُونِی حِینَ قُلْتُ: وَلاَ کَفَفْتُمُونِی عَنْ غَضَبِی ، وَاللہِ لاَ آلِی لَکُمْ عَمَلاً ، ثُمَّ کَتَبَ إِلَی عُمَرَ: یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، لاَ طَاقَۃَ لِی بِالرَّعِیَّۃِ فَابْعَثْ إلَیَّ عَمَلَک۔
(٣٦٥٨٥) حضرت ابو نضرہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے حضرت ہرم بن حیان کو ایک لشکر کی قیادت دے کر روانہ فرمایا۔ پھر ہرم دشمنوں کے ایک آدمی پر غضب ناک ہوئے اور اسے قتل کرنے کا حکم دے دیا۔ پھر وہ اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہوئے اور ان سے فرمایا کہ اللہ تمہیں خیر سے محروم رکھے، جب میں نے یہ بات کی تو تم نے مجھے نصیحت کیوں نہ کی، اور تم نے مجھے میرے غصے سے کیوں نہ روکا، خدا کی قسم میں تمہارے کسی معاملے کا قائد نہیں بنوں گا۔ پھر انھوں نے حضرت عمرکو خط لکھا کہ اے امیر المومنین ! میں رعیت کے کسی کام کی طاقت نہیں رکھتا۔ آپ اس کام کے لیے کسی اور کو بھیج دیجئے۔