(۳۶۶۱) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ؛ أَنَّ سَعِیدَ بْنِ الْعَاصِ صَلَّی بِالنَّاسِ الظُّہْرَ أَوِ الْعَصْرَ ، فَجَہَرَ بِالْقِرَائَۃِ فَسَبَّحَ الْقَوْمُ ، فَمَضَی فِی قِرَائَتِہِ ، فَلَمَّا فَرَغَ صَعِدَ الْمِنْبَرَ ، فَخَطَبَ النَّاسَ ، فَقَالَ : فِی کُلِّ صَلاَۃٍ قِرَائَۃٌ ، وَإِنَّ صَلاَۃَ النَّہَارِ تخرس ، وَإِنِّی کَرِہْت أَنْ أَسْکُتَ ، فَلاَ تَرَوْنَ أَنِّی فَعَلْت ذَلِکَ بِدْعَۃً۔
(٣٦٦١) حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن عاص نے لوگوں کو ظہر یاعصر کی نماز پڑھائی اور اس میں اونچی آواز سے قرات کی، لوگوں نے پیچھے سے تسبیح کہنی شروع کردی۔ حضرت سعید نے اپنی قراءت کو جاری رکھا اور جب فارغ ہوئے تو منبر پر چڑھے اور فرمایا ” ہر نماز میں قراءت ہوتی ہے، اور دن کی نمازیں گونگی ہوتی ہیں یعنی ان میں قراءت آہستہ آواز سے ہوتی ہے۔ مجھے خاموش رہنا ناپسند ہے۔ پس تم یہ خیال نہ کرنا کہ میں نے کوئی بدعت کا عمل کیا ہے۔