(۳۶۶۱۸) حَدَّثَنَا یَعْلَی بْنُ عُبَیْدٍ ، قَالَ : دَخَلْنَا عَلَی مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَۃَ ، فَقَالَ : أُحَدِّثُکُمْ بِحَدِیثٍ لَعَلَّہُ یَنْفَعُکُمْ فَإِنَّہُ قَدْ نَفَعَنِی ، قَالَ : قَالَ لَنَا عَطَائُ بْنُ أَبِی رَبَاحٍ : یَا ابْنَ أَخِی ، إنَّ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ کَانَ یَکْرَہُ فُضُولَ الْکَلاَمُ مَا عَدَا کِتَابَ اللہِ تَعَالَی أَنْ تَقْرَأَہُ ، أَوْ أَمْرًا بِمَعْرُوفٍ ، أَوْ نَہْیًا ، عَنْ مُنْکَرٍ ، وَأَنْ تَنْطِقَ بِحَاجَتِکَ فِی مَعِیشَتِکَ الَّتِی لاَ بُدَّ لَک مِنْہَا ، أَتُنْکِرُونَ أَنَّ {عَلَیْکُمْ حَافِظِینَ کِرَامًا کَاتِبِینَ} وَأَنَّ {عَنِ الْیَمِینِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِیدٌ مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلاَّ لَدَیْہِ رَقِیبٌ عَتِیدٌ} أَمَا یَسْتَحْیِیْ أَحَدُکُمْ لَوْ نَشَرَ صَحِیفَتَہُ الَّتِی أَمْلَی صَدْرَ نَہَارِہِ وَأَکْثَرَ مَا فِیہَا لَیْسَ مِنْ أَمْرِ دِینِہِ ، وَلاَ دُنْیَاہُ۔
(٣٦٦١٨) حصرت یعلی بن عبید فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ محمد بن سوقہ ہمارے پاس آئے اور فرمایا کہ میں تم کو ایک بات بتاتا ہوں امید ہے کہ وہ تم کو نفع دے گی۔ اس لیے کہ اس بات سے مجھ کو نفع ہوا ہے۔ انھوں نے فرمایا کہ عطا بن رباح نے ہمیں فرمایا کہ ” اے میرے بھتیجے تم سے پہلے لوگ فضول باتوں سے بچتے تھے۔ سوائے اس کے کہ تو اللہ تعالیٰ کی کتاب قرآن پاک کی تلاوت کرے یا کسی نیک کام کا حکم کرے یا برائی سے روکے اور یہ کہ تو اپنی ضروری معیشت کو خاطر بقدر ضرورت بات کرے۔ کیا تم لوگ قرآن پاک کی آیت { عَلَیْکُمْ حَافِظِینَ کِرَامًا کَاتِبِینَ } اور { عَنِ الْیَمِینِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِیدٌ مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلاَّ لَدَیْہِ رَقِیبٌ عَتِیدٌ} کا انکار کرسکتے ہو۔ کیا تم کو اس بات سے حیا نہیں آتی کہ اگر تمہارے سارے دن کے اعمال ناموں کا صحیفہ کھولا جائے تو اس میں اکثر باتیں ایسی ہوں کہ جن کا نہ دین سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی دنیا سے۔