(۳۶۶۳۹) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو ہِلاَلٍ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَیْمٍ الرَّاسِبِیُّ ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ : قَالَ أَبُو الصَّہْبَائِ : طَلَبْت الْمَالَ مِنْ حِلِّہِ فَأَعْیَانِی إِلاَّ رِزْقَ یَوْمٍ بِیَوْمٍ ، فَعَلِمْت ، أَنَّہُ قَدْ خِیرَ لِی : وَایْمُ اللہِ مَا مِنْ عَبْدٍ أُوتِیَ رِزْقَ یَوْمٍ بِیَوْمٍ فَلَمْ یَظُنَّ ، أَنَّہُ قد خِیرَ لَہُ إِلاَّ کَانَ عَاجِزًا ، أَوْ غَبِیَّ الرَّأْیِ۔
(٣٦٦٣٩) حضرت ابوالصہبا فرماتے ہیں کہ میں نے مال کو حلال طریقہ سے تلاش کیا تو اس نے مجھے تھکا دیا سوائے یومیہ روزی کے تو میں نے جان لیا کہ میرے ساتھ بھلائی والا معاملہ کیا گیا ہے۔ اللہ کی قسم جس شخص کو یومیہ روزی دی جاتی ہے اور وہ یہ نہیں سمجھتا کہ اس کے ساتھ بھلائی والا معاملہ کیا گیا ہے تو وہ شخص ناقص رائے رکھتا ہے۔