(۳۶۶۸۰) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنِ الْمِنْہَالِ ، عَنْ شَقِیقِ بْنِ سَلَمَۃَ ، قَالَ : دَخَلْنَا عَلَی خَبَّابٍ نَعُودُہُ ، فَقَالَ فِی ہَذَا التَّابُوتِ ، ثَمَانُونَ أَلْفًا مَا شَدَدْتہَا بِخَیْطٍ ، وَلاَ مَنَعْتہَا مِنْ سَائِلٍ ، فَقَالُوا : عَلاَمَ تَبْکِی ، قَالَ مَضَی أَصْحَابِی وَلَمْ تُنْقِصْہُمُ الدُّنْیَا شَیْئًا وَبَقِینَا حَتَّی مَا نَجِدُ لَہَا مَوْضِعًا إِلاَّ التُّرَابَ۔
(٣٦٦٨٠) حضرت شقیق بن سلمہ فرماتے ہیں کہ ہم خباب کے پاس عیادت کے لیے آئے تو انھوں نے فرمایا کہ اس صندوق میں اسی ہزار ٨٠٠٠٠ گرہیں باندھ کر رکھی ہوئی ہیں اور میں نے ان سے کسی سائل کو نہیں روکا۔ ہم نے ان سے سوال کیا کہ آپ کس بات پر روتے ہیں تو انھوں نے جواب دیا کہ میرے ساتھی چلے گئے اور دنیا نے ان کا کچھ بھی نہیں بگاڑا تھا اور اب ہم باقی رہ گئے ہیں حتی کہ اب ہم اس کی سوائے مٹی کے اور کوئی جگہ نہیں دیکھتے۔