(۳۶۶۸۹) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَن عَبِیْدَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : قَالَ لِی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اقْرَأْ عَلَیَّ الْقُرْآنَ ، قَالَ : قُلْتُ : یَا رَسُولَ اللہِ أَقْرَأُ عَلَیْک وَعَلَیْک أُنْزِلَ ، قَالَ: إنِّی أَشْتَہِی أَنْ أَسْمَعَہُ مِنْ غَیْرِی ، قَالَ: فَقَرَأْت النِّسَائَ حَتَّی إذَا بَلَغْت : {فَکَیْفَ إذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ أُمَّۃٍ بِشَہِیدٍ وَجِئْنَا بِکَ عَلَی ہَؤُلاَئِ شَہِیدًا} رَفَعْت رَأْسِی، أَوْ غَمَزَنِی رَجُلٌ إِلَی جَنْبِی فَرَأَیْتُ دُمُوعَہُ تَسِیلُ۔
(٣٦٦٨٩) حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ مجھے تلاوت سناؤ تو انھوں نے عرض کیا کہ میں آپ کو سناؤں جبکہ آپ پر ہی تو اترا ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ کسی دوسرے سے سنوں عبداللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سورة النساء شروع کی یہاں تک کہ جب میں { فَکَیْفَ إذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ أُمَّۃٍ بِشَہِیدٍ وَجِئْنَا بِکَ عَلَی ہَؤُلاَئِ شَہِیدًا } پر پہنچا تو میں نے اپنا سر اٹھایا یا کسی نے مجھ کو ایک جانب سے ٹٹولا تو میں نے دیکھا کہ آپ کے آنسو بہہ رہے تھے۔