(۳۶۷۲۴) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِیُّ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللہِ کَانَ یَقُولُ : أَلاَ إنَّ الْحِلْمَ وَالْحَیَائَ وَالْعِیَّ عِیُّ اللِّسَانِ ، لاَ عِیُّ الْقَلْبِ ، وَالْفِقْہَ مِنَ الإِیمَانِ ، وَہُنَّ مِمَّا یَنْقُصُ مِنَ الدُّنْیَا وَیَزِدْنَ فِی الآخِرَۃِ ، وَمَا یَزِدْنَ فِی الآخِرَۃِ أَکْثَرُ مِمَّا یَنْقُصُ مِنَ الدُّنْیَا إِلا أَنَّ الْفُحْشَ وَالْبَذَائَ وَالْبَیَانَ مِنَ النِّفَاقِ وَہُنَّ مِمَّا یَزِدْنَ فِی الدُّنْیَا وَیَنْقُصْنَ مِنَ الآخِرَۃِ ، وَمَا یَنْقُصْنَ مِنَ الآخِرَۃِ أَکْثَرُ مِمَّا یَزِدْنَ فِی الدُّنْیَا۔
(٣٦٧٢٤) حضرت عون بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ خبردار بردباری، حیاء زبان کی عاجزی (نہ کہ دل کی) اور فقہ ایمان کا حصہ ہیں۔ اور اشیاء دنیا کم کرتی ہیں اور آخرت بڑھاتی ہیں اور اتنا دنیا نہیں گھٹاتی جتنا کہ آخرت کو بڑھاتی ہیں۔ خبردار بےحیائی، فحش گوئی اور بیان میں منافقت یہ چیزیں دنیا تو زیادہ کرتی ہیں لیکن آخرت گھٹا دیتی ہیں اور یہ دنیا اتنا نہیں بڑھاتیں جتنا آخرت کو کم کردیتی ہیں۔