(۳۶۷۵۵) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ الْمُغِیرَۃِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، کَانَ أَبُو بَرْزَۃَ یَتَقَہَّلُ ، وَکَانَ عَائِدُ بْنُ عَمْرٍو الْمُزَنِیّ یَلْبَسُ لِبَاسًا حَسَنًا ، قَالَ : فَأَتَی أَحَدَہُمَا رَجُلٌ ، فَقَالَ : أَلَمْ تَرَ إِلَی أَخِیک یَلْبَسُ کَذَا وَکَذَا وَیَرْغَبُ، عَنْ لِبَاسِکَ ، قَالَ : وَمَنْ یَسْتَطِیعُ أَنْ یَکُونَ مِثْلَ فُلاَنٍ ، مِنْ فَضْلِ فُلاَنٍ کَذَا إنَّ مِنْ فَضْلِ فُلاَنٍ کَذَا ، إنْ مِنْ فَضْلِ فُلاَنٍ کَذَا ، قَالَ : وَأَتَی الآخَرَ ، فَقَالَ : مِثْلَ ذَلِکَ۔
(٣٦٧٥٥) حضرت ثابت (رض) فرماتے ہیں کہ ابوبرزہ (رض) آلودہ رہتے تھے اور عائد بن عمرو مزنی عمدہ لباس پہنا کرتے تھے۔ ان میں سے ایک کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا کہ کیا آپ اپنے دوسرے بھائی کی طرف نہیں دیکھتے جو اس اس طرح کے کپڑے پہنتا ہے اور آپ کے لباس سے اعراض کرتا ہے ؟ تو اس نے جواب دیا کہ ان جیسا کون ہوسکتا ہے اس کی تو یہ یہ فضیلت بھی ہے، اس کو یہ یہ مرتبہ حاصل ہے۔ پھر وہ دوسرے کے پاس آیا تو اس نے بھی پہلے جیسا ہی جواب دیا۔