(۳۶۷۸۴) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ أَبِی الأَشْہَبِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : کَانُوا یَقُولُونَ : إنَّ لِسَانَ الْحَکِیمِ مِنْ وَرَائِ قَلْبِہِ ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ یَقُولَ رَجَعَ إِلَی قَلْبِہِ ، فَإِنْ کَانَ لَہُ قَالَ ، وَإِنْ کَانَ عَلَیْہِ أَمْسَکَ ، وَإِنَّ الْجَاہِلَ قَلْبُہُ فِی طَرَفِ لِسَانِہِ لاَ یَرْجِعُ إِلَی قَلْبِہِ ، مَا أَتَی عَلَی لِسَانِہِ تَکَلَّمَ بِہِ۔
(٣٦٧٨٤) حضرت حسن (رض) کا ارشاد ہے کہ لوگوں کا مقولہ ہے کہ دانا آدمی کی زبان اس کے دل کے پیچھے (ماتحت) ہوتی ہے۔ جب وہ بولنے کا ارادہ کرتا ہے تو اپنے دل سے پوچھتا ہے۔ اگر اس کا نفع ہو تو بات کہہ دیتا ہے اور اگر نقصان ہو تو خاموش رہتا ہے۔ اور جاہل آدمی کا دل اس کی زبان سے ایک طرف میں ہوتا ہے وہ اپنے دل سے نہیں پوچھتا جو منہ میں آجائے کہہ دیتا ہے۔