(۳۶۸۱۳) حَدَّثَنَا ہَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ الْمُغِیرَۃِ ، عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ہِلاَلٍ ، عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ زِیَادٍ الْعَدَوِیِّ ، قَالَ : رَأَیْتُ فِی النَّوْمِ کَأَنِّی أَرَی عَجُوزًا عَوْراء کَبِیرَۃَ الْعَیْنِ وَالأُخْرَی قَدْ کَادَتْ أَنْ تَذْہَبَ عَلَیْہَا مِنَ الزَّبَرْجَدِ وَالْحِلْیَۃِ شَیْئٌ عَجَبٌ ، فَقُلْتُ: مَا أَنْتِ؟ قَالَتْ: أَنَا الدُّنْیَا ، فَقُلْتُ: أَعُوذُ بِاللہِ مِنْ شَرِّکَ، قَالَتْ : فَإِنْ سَرَّک أَنْ یُعِیذَک اللَّہُ مِنْ شَرِّی فَأَبْغِضِ الدِّرْہَمَ۔
(٣٦٨١٣) حضرت علاء بن زیاد عدوی (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ایک ادھیڑ عمر کانی بڑھیا کو دیکھ رہا ہوں اور اس کی دوسری آنکھ بس نکلنے کے قریب ہی تھی۔ اور اس کے اوپر زبرجد اور دوسرے کئی قسم کے عجیب و غریب زیورات تھے۔ میں نے پوچھا کہ تو کون ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ میں دنیا ہوں۔ میں نے کہا کہ میں تیرے شر سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ اس نے کہا کہ اگر تجھ کو یہ بات اچھی لگتی ہے کہ تجھے اللہ میرے شر سے بچائے تو درہم سے بغض رکھ۔