(۳۶۸۳۳) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنْ سُفْیَانَ ، قَالَ : الزُّہْدُ فِی الدُّنْیَا قِصَرُ الأَمَلِ ، وَلَیْسَ بِلُبْسِ الصُّوفِ وَذُکِرَ ، أَنَّ الأَوْزَاعِیَّ کَانَ یَقُولُ : الزُّہْدُ فِی الدُّنْیَا تَرْکُ الْمَحْمَدَۃِ ، یَقُولُ : تَعْمَلُ الْعَمَلَ لاَ تُرِیدُ أَنْ یَحْمَدَک النَّاسُ عَلَیْہِ ، وَذُکِرَ ، أَنَّ الزُّہْرِیَّ کَانَ یَقُولُ : الزُّہْدُ فِی الدُّنْیَا مَا لَمْ یَغْلِبَ الْحَرَامُ صَبْرَک ، وَمَا لَمْ یَغْلِبَ الْحَلاَلُ شُکْرَک۔
(٣٦٨٣٣) حضرت سفیان (رض) فرماتے ہیں کہ دنیا میں زہد امیدوں کو کم کرنے سے ہے تاکہ اون کے کپڑے پہننا۔ اور یہ بات بھی مذکور ہے کہ اوزاعی (رض) فرمایا کرتے تھے کہ دنیا میں زہد تعریف کو چھوڑ دینا ہے فرمایا کرتے تھے کہ تو آخرت کے لیے عمل کر یہ ارادہ نہ کر کہ لوگ تیری اس عمل پر تعریف کریں گے۔ اور زہری (رض) فرمایا کرتے تھے کہ دنیا میں زہد اس وقت تک ہے کہ جب تک حرام تیرے صبر پر غالب نہ آجائے اور حلال تیرے شکر پر غالب نہ آجائے۔