(۳۶۸۴۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَہْلِ الشَّامِ یُکْنَی أَبَا عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : أَتَیْتُ طَاوُوسًا فَاسْتَأْذَنْت عَلَیْہِ فَخَرَجَ إلَیَّ شَیْخٌ کَبِیرٌ ظَنَنْت ، أَنَّہُ طَاوُوسٌ ، قُلْتُ : أَنْتَ طَاوُوسٌ ؟ قَالَ : لاَ ، أَنَا ابْنُہُ ، قُلْتُ : لَئِنْ کُنْت ابْنَہُ فَقَدْ خَرِفَ أَبُوک ، قَالَ : یَقُولُ ہُوَ : إنَّ الْعَالِمَ لاَ یَخْرَفُ ، قَالَ : قُلْتُ : اسْتَأْذِنْ لِی عَلَی أَبِیک ، قَالَ : فَاسْتَأْذَنَ لِی ، فَدَخَلَتْ عَلَیْہِ ، فَقَالَ الشَّیْخُ : سَلْ وَأَوْجِزْ ، فَقُلْتُ : إنْ أَوْجَزْت لِی أَوْجَزْت لَک ، فَقَالَ : لاَ تَسْأَلْ ، أَنَا أُعَلِّمُک فِی مَجْلِسِکَ ہَذَا الْقُرْآنَ وَالتَّوْرَاۃَ وَالإِنْجِیلَ : خَفِ اللَّہَ مَخَافَۃً حَتَّی لاَ یَکُونَ أَحَدٌ أَخْوَف عِنْدَکَ مِنْہُ ، وَارْجَہ رَجَائً ہُوَ أَشَدُّ مِنْ خَوْفِکَ إیَّاہُ ، وَأَحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِک۔
(٣٦٨٤٥) حضرت ابوعبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں طاؤس (رض) کے پاس آیا پھر میں ان کے پاس جانے کی اجازت طلب کی تو میرے پاس ایک بہت بوڑھا شخص آیا میں سمجھا کہ یہی طاؤس ہیں میں نے سوال کیا کہ آپ ہی طاؤس ہیں ؟ اس نے جواب دیا کہ نہیں میں تو ان کا بیٹا ہوں۔ میں نے کہا کہ اگر تو ان کا بیٹا ہے تو پھر تو تیرے والد صاحب کا ذہن خراب ہوچکا ہوگا۔ اس نے جواب دیا کہ والد صاحب فرماتے ہیں کہ عالم کی عقل خراب نہیں ہوتی۔ فرماتے ہیں کہ میں نے اس سے کہا کہ اپنے والد صاحب سے میرے لیے اجازت طلب کرو۔ فرماتے ہیں کہ مجھ کو اجازت مل گئی۔ پس میں ان کے پاس گیا تو انھوں نے کہا کہ پوچھو اور جلدی اور مختصر کلام کرو۔ میں نے کہا کہ اگر آپ جلدی کلام کرتے چلیں گے تو میں بھی مختصر کلام کروں گا۔ انھوں نے کہا کہ تو سوال نہ کر میں تجھ کو اس مجلس میں قرآن، توراۃ ، انجیل کی تعلیم دیے دیتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ سے اتنا ڈر کہ اس کے علاوہ کسی کا بھی خوف تجھے نہ رہے۔ اس کے خوف سے زیادہ تو اس سے امید رکھ اور لوگوں کے لیے وہی پسند کر جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔