(۳۶۸۵۰) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ : حدَّثَنَا زُرَیْکُ بْنُ أَبِی زُرَیْکٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْحَسَنَ وَہُوَ یَقُولُ : یَا ابْنَ آدَمَ ، إنَّک نَاظِرٌ إِلَی عَمَلِکَ فزن خَیْرَہُ وَشَرَّہُ ، وَلاَ تُحَقِّرْ شَیْئًا مِنَ الْخَیْرِ وَإِنْ ہُوَ صَغُرَ ، فَإِنَّک إذَا رَأَیْتہ سَرَّک مَکَانَہُ ، وَلاَ تُحَقِّرْ شَیْئًا مِنَ الشَّرِّ فَإِنَّک إذَا رَأَیْتہ سَائَک مَکَانَہُ ، رَحِمَ اللَّہُ عَبْدًا کَسَبَ طَیِّبًا وَأَنْفَقَ قَصْدًا وَوَجَّہَ فَضْلا ، وَجِّہُوا ہَذِہِ الْفُضُولَ حَیْثُ وَجَّہَہَا اللَّہُ ، وَضَعُوہَا حَیْثُ أَمَرَ اللَّہُ بِہَا أَنْ تُوضَعَ ، فَإِنَّ مَنْ قَبْلَکُمْ کَانُوا یَشْتَرُونَ أَنْفُسَہُمْ بِالْفَضْلِ مِنَ اللہِ ، وَإِنَّ ہَذَا الْمَوْتَ قَدْ أَضَرَّ بِالدُّنْیَا فَفَضَحَہَا ، فَوَاللہِ مَا وُجِدَ بَعْدُ ذُو لُبٍّ فَرِحًا۔
(٣٦٨٥٠) حضرت حسن (رض) فرماتے ہیں کہ اے ابن آدم ! تو اپنے عمل کو دیکھ رہا ہے پس اس میں سے اچھے اور برے کا وزن کرکے دیکھ لے اور کسی بھی بھلائی کو حقیر نہ سمجھ اگرچہ وہ چھوٹی سی ہی کیوں نہ ہو اس لیے کہ جب تو اس کے مرتبہ کو دیکھے گا تو خوش ہوگا اور کسی بھی حقیر گناہ کو حقیر نہ سمجھ کیونکہ جب تو اس کے مقام کو دیکھے گا تو برا محسوس کرے گا اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم فرمائیں کہ جس نے حلال طریقہ سے مال کمایا اور میانہ روی سے خرچ کیا اور زائد کو لوٹا دیا۔ اس زائد کو اسی جگہ لوٹایا کرو جہاں اللہ نے لوٹایا ہے اور اس کو اسی جگہ رکھو جہاں اللہ نے رکھنے کا حکم دیا ہے۔ پس تحقیق تم سے قبل لوگوں نے اللہ کے فضل کے بدلہ میں اپنی جانوں کو بیچ دیا تھا اور یہ موت دنیا کے بہت زیادہ قریب ہوئی۔ پس اس نے دنیا کو ذلیل کردیا اللہ کی قسم کسی جاندار نے بھی اس کے بعد خوشی نہیں دیکھی۔