hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 36874

.

ابن أبي شيبة

36874
Ibn Abi Shaybah
(۳۶۸۷۵) حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَی ، قَالَ : حدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ زَیْدٍ أَخُو حَمَّادِ بْنِ زَیْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَان الشَّحَّامُ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَاسِعٍ ، قَالَ : قَدِمْت مِنْ مَکَّۃَ فَإِذَا عَلَی الْخَنْدَقِ قَنْطَرَۃٌ ، فَأَخَذْت فَانْطُلِقَ بِی إِلَی مَرْوَانَ بْنِ الْمُہَلَّبِ ، وَہُوَ أَمِیرٌ عَلَی الْبَصْرَۃِ ، فَرَحَّبَ بِی ، وَقَالَ : حَاجَتُک یَا أَبَا عبْدِ اللہِ ، قُلْتُ : حَاجَتِی إنِ اسْتَطَعْت أَنْ أَکُونَ کَمَا قَالَ أَخُو بَنِی عَدِیٍّ ، قَالَ : وَمَنْ أَخُو بَنِی عَدِیٍّ ؟ قَالَ : الْعَلاَئُ بْنُ زِیَادٍ ، قَالَ : اسْتَعْمَلَ صَدِیقٌ لَہُ مَرَّۃً عَلَی عَمَلٍ فَکَتَبَ إلَیْہِ : أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنَ اسْتَطَعْت أَنْ لاَ تَبِیتَ إِلاَّ وَظَہْرُک خَفِیفٌ، وَبَطْنُک خَمِیصٌ ، وَکَفُّک نَقِیَّۃٌ مِنْ دِمَائِ الْمُسْلِمِینَ وَأَمْوَالِہِمْ ، فَإِنَّک إنْ فَعَلَتْ ذَلِکَ لَمْ یَکُنْ عَلَیْک سَبِیلٌ {إنَّمَا السَّبِیلُ عَلَی الَّذِینَ یَظْلِمُونَ النَّاسَ وَیَبْغُونَ فِی الأَرْضِ} الآیَۃُ ، قَالَ مَرْوَانُ : صَدَقَ وَاللہِ وَنَصَحَ ، ثُمَّ قَالَ : حَاجَتُک یَا أَبَا عَبْدِ اللہِ ، قُلْتُ : حَاجَتِی أَنْ تُلْحِقَنِی بِأَہْلِی ، قَالَ : فَقَالَ : نَعَمْ۔
(٣٦٨٧٥) حضرت محمد بن واسع فرماتے ہیں کہ میں مکہ سے آیا تو راستہ میں خندق پر ایک پل تھا میں اس پل پر چل پڑا۔ وہ پل مجھے مروان بن مہلب کے پاس لے گیا جو بصرہ کے امیر تھے۔ انھوں نے مجھے مرحبا کہا اور فرمایا اے عبداللہ آپ کی کوئی حاجت ہو ؟ میں نے کہا کہ میری حاجت یہ ہے کہ اسی طرح ہوجاؤں کہ جس طرح بنی عدی کے بھائی نے کہا تھا۔ انھوں نے سوال کیا کہ بنی عدی کے بھائی کون ہیں ؟ تو میں نے جواب دیا کہ ” علاء بن یزید “ ہیں۔ علاء بن یزید نے کہا ہے کہ ان کے کسی دوست کو کسی کام پر عامل مقرر کرنے کو کہا گیا تو انھوں نے جواب دیا کہ ” اما بعد “ اگر تو طاقت رکھے کہ تو رات اس حالت میں گزارے کہ تیری کمر ہلکی ہو اور تیرا پیٹ خالی ہو اور تیری ہتھیلیاں مسلمانوں کے خون اور اموال سے پاک ہوں تو اگر تو نے یہ کام کرلیا تو تجھ پر کوئی راستہ نہیں۔ راستہ تو ان لوگوں پر ہے کہ جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں زیادتی کرتے ہیں۔ مروان نے کہا کہ بالکل سچ فرمایا اور نصیحت کی۔ پھر مروان نے پوچھا کہ آپ کی کوئی ضرورت ہے ابوعبداللہ ؟ تو میں نے کہا کہ میری ضرورت یہ ہے کہ تو مجھے میرے گھر والوں سے ملا دے۔ تو اس نے جواب دیا کہ کیوں نہیں۔