(۳۶۸۹۶) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ ، قَالَ : کُنْتُ قَائِدَ أَبِی حِینَ ذَہَبَ بَصَرُہُ ، فَکُنْت إذَا خَرَجْت مَعَہُ إِلَی الْجُمُعَۃِ فَسَمِعَ التَّأْذِینَ اسْتَغْفَرَ لأَبِی أُمَامَۃَ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَۃَ وَدَعَا لَہُ ، فَقُلْتُ لَہُ : یَا أَبَتِ ، مَا شَأْنُک إذَا سَمِعْت التَّأْذِینَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ اسْتَغْفَرَتْ لأَبِی أُمَامَۃَ وَدَعَوْت لَہُ وَصَلَّیْت عَلَیْہِ ، قَالَ : أَیْ بُنَیَّ ، إِنَّہُ کَانَ أَوَّلَ مَنْ جَمَّعَ بِنَا قَبْلَ قُدُومِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی نَقِیعِ الْخَضِمَّاتِ فِی ہَزْمِ بَنِی بَیَاضَۃَ ، قَالَ : وَکَمْ کُنْتُمْ یَوْمَئِذٍ ؟ قَالَ : کُنَّا أَرْبَعِینَ رَجُلاً۔
(ابوداؤد ۱۰۶۲۔ ابن ماجہ ۱۰۸۲)
(٣٦٨٩٦) حضرت عبد الرحمن بن کعب بن مالک فرماتے ہیں کہ جب میرے والد کی بینائی زائل ہوگئی تو میں انھیں لے کر جمعہ کی نماز کے لیے جایا کرتا تھا۔ جب وہ جمعہ کی اذان سنتے تو ابو امامہ اسعد بن زرارہ کے لیے استغفار کرتے اور دعا کرتے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ اے ابا جان ! جمعہ کے دن آپ ابو امامہ کے لیے دعا اور استغفار کیوں کرتے ہیں ؟ انھوں نے فرمایا بیٹا ! حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے (مدینہ منورہ کی طرف) تشریف لانے سے پہلے سب سے پہلے انھوں نے ہی ہمیں جمعہ کی نماز بنو بیاضہ کے چشمے اور چراگاہ کے پاس پڑھائی تھی۔ میں نے پوچھا کہ اس وقت آپ کتنے آدمی تھے ؟ انھوں نے فرمایا کہ اس وقت ہم چالیس آدمی تھے۔