(۳۶۹۴۰) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ سَمِعْت الْبَرَائَ یَقُولُ : أَوَّلُ مَنْ قَدِمَ عَلَیْنَا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَیْرٍ ، وَابْنُ أُمِّ مَکْتُومٍ فَجَعَلاَ یُقْرِآنِ الناس الْقُرْآنَ ، قَالَ : ثُمَّ جَائَ عَمَّارٌ وَبِلاَلٌ وَسَعْدٌ ، ثُمَّ جَائَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِی عِشْرِینَ راکبا، ثُمَّ جَائَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَمَا رَأَیْت أَہْلَ الْمَدِینَۃِ فَرِحُوا بِشَیْئٍ فَرَحَہُمْ بِہِ۔ (بخاری ۳۹۲۴۔ احمد ۲۸۴)
(٣٦٩٤٠) حضرت برائ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ میں سے جو سب سے پہلے ہمارے پاس (مدینہ منورہ) آئے وہ حضرت مصعب بن عمیر اور حضرت ابن ام مکتوم ہیں۔ ان دونوں نے لوگوں کو قرآن پڑھانا شروع کیا۔ پھر حضرت عمار، حضرت بلال، حضرت سعد آئے۔ پھر حضرت عمر بن خطاب بیس سواروں کے ساتھ آئے۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے۔ میں نے مدینہ والوں کو کسی بات پر اتنا خوش نہیں دیکھا جتنا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آمد پر دیکھا۔