(۳۶۹۵۳) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ حُصَیْنٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَقِیَ قَوْمًا فِیہِمْ حَادٍ یَحْدُو ، فَلَمَّا رَأَوْا النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سَکَتَ حَادِیہُمْ ، فَقَالَ : مَنِ الْقَوْمُ ، قَالُوا : مِنْ مُضَرَ ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : وَأَنَا مِنْ مُضَرَ ، فَقَالَ : مَا شَأْنُ حَادِیکُمْ لاَ یَحْدُو فَقَالُوا : یَا رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إنَّا أَوَّلُ الْعَرَبِ حُدَائً ، قَالَ : وَمَا ذَاکَ ، قَالُوا : إنَّ رَجُلاً مِنَّا وَسَمَّوْہُ غَزَبَ فِی إِبِلٍ لَہُ فِی أَیَّامِ الرَّبِیعِ ، فَبَعَثَ غُلاَمًا لَہُ مَعَ الإِبِلِ ، فَأَبْطَأَ الْغُلاَمُ ، ثُمَّ جَائَ فَجَعَلَ یَضْرِبُہُ بِعَصًا عَلَی یَدِہِ ، فَانْطَلَقَ الْغُلاَمُ وَہُوَ یَقُولُ : وَایَدَاہُ وَایَدَاہُ ، قَالَ : فَتَحَرَّکَتِ الإِبِلُ وَنَشِطَتْ ، فَقَالَ لَہُ : أَمْسِکْ أَمْسِکْ ، قَالَ : فَافْتَتَحَ النَّاسُ الْحُدَائَ۔
(٣٦٩٥٣) حضرت مجاہد فرماتے ہں ک کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ملاقات ایک ایسی قوم سے ہوئی جن میں ایک حدی خواں حدی پڑھ رہا تھا لیکن جب انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا تو وہ خاموش ہوگیا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سوال کیا کہ یہ کون سی قوم ہے ؟ آپ کو بتایا گیا کہ یہ قیلہ مضر سے ہیں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میں بھی مضر سے ہوں۔ پھر آپ نے فرمایا کہ تمہارا حدی خواں خاموش کیوں ہوگیا۔ انھوں نے کہا یا رسول اللہ ! ہم عربوں میں سب سے پہلے حدی پڑھنے والے ہیں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا وہ کیسے ؟ انھوں نے عرض کیا کہ ہماری قوم کا ایک آدمی بہار کے موسم میں اپنے اونٹوں سے دور تھا۔ اس نے اپنے غلام کو اونٹ لینے بھیجا تو غلام نے دیر کردی۔ پھر وہ آدمی خود آیا اور غلام کو عصا سے اس کے ہاتھ پر مارنا شروع کردیا۔ تو غلام ” وایداہ ! وایداہ ! “ (ہائے میرا ہاتھ، ہائے میرا ہاتھ) کہتے ہوئے چلنے لگا۔ اس کا یہ جملہ سن کر اونٹ تیز تیز حرکت کرنے لگے اور نشاط میں آگئے۔ اس آدمی نے کہا کہ یہ کہتے رہو، یہ کہتے رہو۔ اس کے بعد سے لوگوں میں حدی کا رواج پڑگیا۔