(۳۶۹۷۶) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ حَدَّثَنَا رَبَاحُ بْنُ أَبِی مَعْرُوفٍ ، عَنْ عَطَائٍ ، قَالَ : طَافَ الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِی رَبِیعَۃَ مَعَ عبد الملک بْنِ مَرْوَانَ حَتَّی إذَا کَانَ فِی الطَّوَافِ السَّابِعِ دنا إِلَی الْبَیْتِ یَلْتَزِمُہُ فَأَخَذَ الْحَارِثُ بِیَدِہِ ، فَالْتَفَتَ إلَیْہِ ، فَقَالَ : مَالِکٌ یَا حَارِثُ ، قَالَ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، تَدْرِی مَنْ أَوَّلُ مَنْ فَعَلَ ہَذَا عَجُوزٌ مِنْ عَجَائِزِ قَوْمِکَ ، قَالَ : فَکُفَّ وَلَمْ یلْتَزِمْہ۔
(٣٦٩٧٦) حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ حارث بن عبداللہ بن ابی ربیعہ نے عبد الملک بن مروان کے ساتھ طواف کیا جب وہ ساتویں چکر میں تھے تو بیت اللہ کے قریب ہو کر اس سے چمٹ گئے۔ حارث نے انھیں اپنے ہاتھ سے پکڑا تو عبد الملک بن مروان نے کہا کہ اے حارث کیا بات ہوئی ؟ انھوں نے کہا کہ اے امیر المومنین ! آپ جانتے ہیں کہ ایسا سب سے پہلے کس نے کیا تھا ؟ آپ کی قوم کی بوڑھی نے۔ پھر عبد الملک بن مروان پیچھے ہٹ گئے اور کعبہ سے نہ چمٹے۔