(۳۷۰۱۲) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ ثَقِیفٍ ، قَالَ : اسْتَشَارَ رَجُلٌ مِنْ ثَقِیفٍ عُمَرَ أَنْ یَحْصِبَ الْمَسْجِدَ ، فَقَالَ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، إِنَّہُ أَوْطَأُ وَأَغْفَرُ لِلنُّخَامَۃِ وَالْمُخَاطِ ، فَقَالَ عُمَرُ : أحْصِبُوہُ مِنَ الْوَادِی الْمُبَارَکِ مِنَ الْعَقِیقِ ، فَکَانَ أَوَّلُ مَنْ حَصَّبَ الْمَسْجِدَ عُمَرُ رضی اللَّہُ عَنْہُ۔
(٣٧٠١٢) قبیلہ ثقیف کے آدمی فرماتے ہیں کہ بنو ثقیف کے ایک آدمی نے حضرت عمر سے مشورہ کیا کہ مسجد میں گھاس بچھا دی جائے۔ انھوں نے عرض کیا کہ اے امیر المومنین یہ زیادہ آرام دہ چیز ہے، تھوک اور گندگی وغیرہ کو چھپانے والی ہے۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ مسجد میں مبارک وادی یعنی وادی عقیق کی گھاس بچھاؤ۔ پس مسجد میں سب سے پہلے گھاس بچھانے والے حضرت عمر ہیں۔