(۳۷۰۲۹) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَعْلَی الأَسْلَمِیُّ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الْمُؤَمِّلِ ، عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : کَانَ أَوَّلُ إسْلاَمِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ : ضَرَبَ أُخْتِی الْمَخَاضُ ، قَالَ : فَأُخْرِجْتُ مِنَ الْبَیْتِ ، فَدَخَلْتُ فِی أَسْتَارِ الْکَعْبَۃِ فِی لَیْلَۃٍ قَارَّۃٍ ، قَالَ : فَجَائَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ الْحِجْرَ وَعَلَیْہِ نَعْلاَہُ ، قَالَ : فَصَلَّی مَا شَائَ اللَّہُ ، ثُمَّ انْصَرَفَ ، فَسَمِعْتُ شَیْئًا لَمْ أَسْمَعْ مِثْلَہُ ، فَخَرَجْتُ فَاتَّبَعْتُہُ ، فَقَالَ : مَنْ ہَذَا ، فَقُلْتُ : عُمَرُ ، قَالَ: یَا عُمَرُ ، مَا تَدَعَنْی لَیْلاً، وَلاَ نَہَارًا، قَالَ: فَخَشِیتُ أَنْ یَدْعُوَ عَلَی، فَقُلْتُ: أَشْہَدُ أَنْ لاَ إلَہَ إلاَّ اللَّہُ، وَأَنَّک رَسُولُ اللہِ، فَقَالَ: یَا عُمَرُ، اسْتُرْہُ، قَالَ: فَقُلْتُ: وَالَّذِی بَعَثَک بِالْحَقِّ لأعْلِنَنَّہُ کَمَا أَعْلَنْتُ الشِّرْکَ۔
(مسند ۴۳۲۹۔ ابو نعیم ۳۹)
(٣٧٠٢٩) حضرت جابر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر کے اسلام کی ابتدا کا واقعہ یہ ہوا کہ وہ فرماتے ہیں کہ ایک رات میری بہن کو درد زہ ہوا تو مجھے گھر سے نکال دیا گیا۔ میں ایک تاریک رات میں خانہ کعبہ کے پردوں میں داخل ہوگیا۔ اتنے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے اور آپ جوتوں کے ساتھ اندر داخل ہوئے اور جتنا اللہ نے چاہا اتنی نماز پڑھی۔ پھر میں نے ایک ایسی آواز سنی جو پہلے نہ سنی تھی۔ میں اس آواز کے پیچھے چل پڑا ۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کون ہے ؟ میں نے کہا کہ عمر ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ اے عمر ! کیا بات ہے کہ تم ہمیں نہ دن میں چھوڑتے ہو نہ رات میں۔ مجھے اندیشہ ہوا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے خلاف بددعا نہ کردیں۔ لہٰذا میں نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ نے فرمایا اے عمر اس بات کو خفیہ رکھو۔ میں نے کہا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے جس طرح میں نے شرک کا اعلان کیا تھا میں ایمان کا بھی اعلان کروں گا۔