(۳۷۰۵۴) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ زُرَارَۃَ بْنِ أَوْفَی ، عَنْ تَمِیمٍ الدَّارِیِّ ، قَالَ : أَوَّلُ مَا یُحَاسَبُ بِہِ الْعَبْدُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ الصَّلاَۃُ الْمَکْتُوبَۃُ ، فَإِنْ أَتَمَّہَا وَإِلاَّ قِیلَ : انْظُرُوا ہَلْ لَہُ مَنْ تَطَوَّعْ ، فَأُکْمِلَتِ الْفَرِیضَۃُ مِنْ تَطَوُّعِہِ ، فَإِنْ لَمْ تَکْمُلِ الْفَرِیضَۃُ وَلَمْ یَکُنْ لَہُ تَطَوُّعٌ أُخِذَ بِطَرَفَیْہِ فَقُذِفَ بِہِ فِی النَّارِ۔
(٣٧٠٥٤) حضرت تمیم داری فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن سب سے پہلے فرض نماز کا حساب کیا جائے گا۔ اگر وہ پوری نکل آئی تو ٹھیک اور اگر وہ پوری نہ نکلی تو کہا جائے گا کہ دیکھو کہ اس کے پاس نوافل بھی ہیں۔ اس کے نوافل سے فرضوں کی کمی کو پورا کیا جائے گا۔ اگر فرض پورے نہ نکلے اور نوافل بھی نہ ہوئے تو اس آدمی کو پکڑ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔