(۳۷۰۵۷) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، وَابْنُ أَبِی بُکَیْر ، قَالاَ : حدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أَوَّلُ مَنْ یُکْسَی حُلَّۃً مِنَ النَّارِ إبْلِیسُ ، فَیَضَعُہَا عَلَی حَاجِبِہِ وَیَسْحَبُہَا مِنْ خَلْفِہِ وَہُوَ یَقُولُ : یَا ثُبُورَاہُ ، وَذُرِّیَّتُہُ خَلْفَہُ وَہُمْ یَقُولُونَ : یَا ثُبُورَہُمْ ، حَتَّی یَقِفَ عَلَی النَّارِ فَیَقُولُ : یَا ثُبُورَاہُ ، وَیَقُولُونَ : یَا ثُبُورَہُمْ ، فَیَقُولُ : (لاَ تَدْعُوا الْیَوْمَ ثُبُورًا وَاحِدًا وَادْعُوا ثُبُورًا کَثِیرًا) ۔
(٣٧٠٥٧) حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن سب سے پہلے ابلیس کو آگ کا لباس پہنایا جائے گا۔ وہ اسے اپنے پہلو پر رکھے گا اور اسے اپنے پیچھے سے اتارنے کی کوشش کرے گا اور اپنی موت کو پکارے گا۔ اس کی اولادیں اس کے پیچھے ہوں گی اور وہ بھی اپنی موت کو پکار رہی ہوں گی۔ پھر وہ جہنم کے پاس کھڑا ہو کر اپنی موت کو پکارے گا اور شیطان کے چیلے بھی اپنی موت کو پکاریں گے۔ اس پر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ آج تم ایک موت کو نہ پکارو بلکہ کئی موتوں کو پکارو پھر بھی موت نہیں آئے گی۔