(۳۷۰۷۱) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَامِرٌ ، أَنَّ أَوَّلَ جَدٍّ خَاصَمَ بَنِی بَنِیہِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مَاتَ ابْنُہُ وَتَرَکَ ابْنَیْنِ فَخَاصَمَہُمْ إِلَی زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ فَرَآہُ عُمَرُ یَنْظُرُ فِی شَأْنِہِمْ ، فَقَالَ : مَنْ یُخَاصِمُنِی فِی وَلَدِی ، فَقَالَ : زَیْدٌ : إِنَّ لَہُمْ أَبًا دُونَک ، فَشَرَّکَ بَیْنَہُمْ۔
(٣٧٠٧١) حضرت عامر فرماتے ہیں کہ وہ پہلے دادا جنہوں نے اپنے پوتوں کو حاصل کرنے کے لیے جھگڑا کیا حضرت عمر بن خطاب تھے۔ ان کے صاحبزادے کا انتقال ہوا اور انھوں نے دو بیٹے چھوڑے۔ حضرت عمر ان کے حصول کا جھگڑا لے کر حضرت زید بن ثابت کے پاس گئے۔ جب انھوں نے دیکھا کہ حضرت زید ان کے خلاف فیصلہ کریں گے تو فرمایا کہ میری اولاد کے بارے میں کون میرا فریق بن سکتا ہے ؟ حضرت زید نے فرمایا کہ ان کے والد آپ نہیں کوئی اور ہے۔ پھر ان کے درمیان شراکت کرادی۔