(۳۷۱۲۷) حَدَّثَنَا کَثِیرٌ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ مَیْمُونٍ لَمَّا نَزَلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ : {وَالَّذِینَ یَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ یَأْتُوا بِأَرْبَعَۃِ شُہَدَائَ فَاجْلِدُوہُمْ ثَمَانِینَ جَلْدَۃً وَلاَ تَقْبَلُوا لَہُمْ شَہَادَۃً أَبَدًا} قَالَ رَجُلٌ: إنْ رَأَی رَجُلٌ فِی أَہْلِہِ مَا یَکْرَہُ فَذَہَبَ یَجْمَعُ أَرْبَعَۃً فَرَغَ الرَّجُلُ مِنْ حَاجَتِہِ ، وَإِنْ ذَکَرَ ذَلِکَ جُلِدَ ، وَلَمْ تُقْبَلْ لَہُ شَہَادَۃٌ ، وَکَانَ مِنَ الْفَاسِقِینَ، فَأُنْزِلَتْ آیَۃُ التَّلاعُنِ، فَکَانَ ذَلِکَ الرَّجُلُ الَّذِی، قَالَ مَا قَالَ أَوَّلُ مَنِ ابْتُلِیَ بِہَذَا، وَنَزَلَتْ آیَۃُ التَّلاعُنِ۔
(٣٧١٢٧) حضرت میمون فرماتے ہیں کہ جب قرآن مجید کی یہ آیت نازل ہوئی { وَالَّذِینَ یَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ یَأْتُوا بِأَرْبَعَۃِ شُہَدَائَ فَاجْلِدُوہُمْ ثَمَانِینَ جَلْدَۃً وَلاَ تَقْبَلُوا لَہُمْ شَہَادَۃً أَبَدًا } تو ایک آدمی نے کہا کہ اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کو ایسی حالت میں دیکھے جو اس کے لیے ناقابل برداشت ہو تو کیا وہ جاکر چار آدمی جمع کرنے لگ جائے۔ اتنے میں وہ آدمی اپنے کام سے فارغ ہوجائے گا۔ اور اگر وہ اس بات کا ذکر کرے تو اسے کوڑے بھی پڑیں گے، اس کی گواہی بھی قبول نہیں کی جائے گی اور وہ فاسقوں میں سے بھی ہوجائے گا ؟ اس پر لعان کی آیت نازل ہوئی۔ وہ آدمی جس نے یہ بات کی تھی وہی لعان کے حکم میں سب سے پہلے مبتلا ہوا۔