(۳۷۱۵۸) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : سَاوَمَ عُمَرُ رَجُلاً بِفَرَسٍ فَرَکِبَہُ یَشُورُہُ فَعَطِبَ ، فَقَالَ لِلرَّجُلِ: خُذْ فَرَسَک ، فَقَالَ الرَّجُلُ : لاَ ، قَالَ عُمَرُ : اجْعَلْ بَیْنِی وَبَیْنَکَ حَکَمًا ، فَقَالَ الرَّجُلُ: شُرَیْحٌ، فَتَحَاکَمَا إلَیْہِ ، فَقَالَ شُرَیْحٌ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، خُذْ بِمَا ابْتَعْت ، أَوْ رُدَّ کَمَا أَخَذْت ، قَالَ عُمَرُ : وَہَلَ الْقَضَائُ إلاَّ عَلَی ہَذَا ، فَصَیَّرَہُ إِلَی الْکُوفَۃِ ، فَبَعَثَہُ قَاضِیًا ، فَإِنَّہُ لأوَّلُ یَوْمٍ عَرَفَہُ۔
(٣٧١٥٨) حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے ایک آدمی کے ساتھ گھوڑے کا بھاؤ تاؤ کیا۔ آپ اس گھوڑے کو آزمانے کے لیے گھوڑے پر سوار ہوئے تو گھوڑا ہلاک ہوگیا۔ آپ نے آدمی سے کہا اپنا گھوڑا سنبھال۔ اس نے کہا کہ یہ اب میرا نہیں۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ اپنے اور میرے درمیان ثالث مقرر کرلے۔ آدمی نے کہا حضرت شریح کے پاس چلو۔ حضرت شریح نے فرمایا امیر المومنین ! جو آپ نے خریدا وہ لے لیں یا جس حال میں لیا تھا اسی حال میں واپس کردیں۔ حضرت عمر نے فرمایا کہ کیا فیصلہ یہی ہوگا ؟ ! پھر آپ نے انھیں کوفہ کا قاضی بنا کر بھیج دیا۔ یہ پہلا دن تھا جب سے انھیں پہچانا جانے لگا۔