(۳۷۱۶۰) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی الأَزْرَقُ بْنُ قَیْسٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ یَعْمَُرَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أَوَّلُ مَا یُحَاسَبُ بِہِ الْعَبْدُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ صَلاَتُہُ ، فَإِنْ کَانَ أَتَمَّہَا کُتِبَتْ لَہُ تَامَّۃً ، وَإِنْ لَمْ تَکُنْ تَامَّۃً ، قَالَ : انْظُرُوا ہَلْ تَجِدُونَ لِعَبْدِی مِنْ تَطَوُّعٍ فَأَکْمِلُوہُ بِمَا ضَیَّعَ من فَرِیضَتِہِ ، ثُمَّ الزَّکَاۃُ ، ثُمَّ تُؤْخَذُ الأَعْمَالُ عَلَی حَسَبِ ذَلِکَ۔ (احمد ۶۵)
(٣٧١٦٠) ایک صحابی روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن سب سے پہلے نماز کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ اگر نماز پوری نکل آئی تو ٹھیک اگر پوری نہ ہوئی تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ دیکھو کہ اس کے نامہ اعمال میں نفل ہیں۔ نفلوں کے ذریعے اس کے فرضوں کی کمی کو پورا کیا جائے گا۔ پھر زکوۃ کا حساب ہوگا۔ پھر باقی اعمال کا حساب اسی طرح ہوگا۔