(۳۷۱۹۲) حَدَّثَنَا مَسْلَمَۃُ حَدَّثَنَا أَبُو عَلِیٍّ عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی رَجَائٍ الزَّیَّاتُ الْمَالِکِیُّ بِمَکَّۃَ إمْلاَئً مِنْ حِفْظِہِ حَدَّثَنَا أَبُو حَارِثَۃَ أَحْمَدُ بْنُ إبْرَاہِیمَ الْغَسَّانِیُّ بِالرَّمْلَۃِ سَنَۃَ سَبْعٍ وَسَبْعِینَ وَمِئَتَیْنِ حَدَّثَنَا أَبِی ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ جَدِّہِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ جَیْشِ مُسْلِمِ بْنِ عُقْبَۃَ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلْت بِالْمَدِینَۃِ دَخَلْت مَسْجِدَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَصَلَّیْت إِلَی جَنْبِ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ مَرْوَانَ ، فَقَالَ لِی عَبْدُ الْمَلِکِ : أَمِنْ ہَذَا الْجَیْشِ أَنْتَ ، قَالَ : قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : ثَکِلَتْک أُمُّک ، أَتَدْرِی إِلَی مَنْ تَسِیرُ إِلَی أَوَّلِ مَوْلُودٍ وُلِدَ فِی الإِسْلاَمِ ، وَإِلَی ابْنِ حَوَارِیِّ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَإِلَی ابْنِ أَسْمَائَ ذَاتِ النِّطَاقَیْنِ ، وَإِلَی مَنْ حَنَّکَہُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِیَدِہِ ، أَمَّا وَاللہِ لَئِنْ جِئْتہ نَہَارًا لَتَجِدَنَّہُ صَائِمًا ، وَلَئِنْ جِئْتہ لَیْلاً لَتَجِدَنَّہُ قَائِمًا ، وَلَوْ أَنَّ أَہْلَ الأَرْضِ أَطْبَقُوا عَلَی قَتْلِہِ لَکَبَّہُمَ اللَّہُ جَمِیعًا فِی النَّارِ عَلَی وُجُوہِہِمْ ، قَالَ ذَلِکَ الرَّجُلُ : مَا مَضَتْ إلاَّ أَیَّامٌ حَتَّی صَارَتِ الْخِلاَفَۃُ إِلَی عَبْدِ الْمَلِکِ وَوَجَّہَنَا إلَیْہِ فَقَتَلْنَاہُ۔
(٣٧١٩٢) حضرت مسلم بن عقبہ کے لشکر کے ایک آدمی بیان کرتے ہیں کہ جب میں مدینہ آیا تو میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مسجد میں داخل ہوا۔ میں نے عبد الملک بن مروان کے ساتھ نماز پڑھی۔ عبد الملک نے مجھ سے کہا کہ کیا تو اس لشکر سے ہے ؟ میں نے کہا جی ہاں۔ انھوں نے کہا تمہاری ماں تمہیں کھوئے، کیا تم جانتے ہو کہ تم کس سے لڑنے جارہے ہو ؟ تم اسلامی سلطنت میں پیدا ہونے والے پہلے بچے سے لڑنے جارہے ہو، تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حواری (حضرت زبیر ) کے بیٹے سے لڑنے جارہے ہو۔ تم حضرت اسماء ذات النطاقین کے بیٹے سے لڑنے جارہے ہو۔ تم اس سے لڑنے جارہے ہو جسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گھٹی دی تھی۔ خدا کی قسم اگر تم دن کو ان کے پاس جاؤ تو انھیں روزے کی حالت میں پاؤ گے اور اگر رات میں ان کے پاس جاؤ تو انھیں قیام کی حالت میں پاؤ گے۔ اگر ساری زمین کے لوگ ان کے قتل پر اجماع کرلیں تو اللہ تعالیٰ سب کو ان کو منہ کے بل جہنم میں داخل کردے گا۔ وہ آدمی کہتا ہے کہ ابھی کچھ ہی دن گزرے تھے کہ عبد الملک کو خلیفہ بنادیا گیا ۔ اس نے ہمیں حضرت عبداللہ بن زبیر کو قتل کرنے کے لیے بھیجا اور ہم نے انھیں قتل کردیا۔ ! !