(۳۷۱۹۹) أَخْبَرَنَا مَسْلَمَۃُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ الْمَکِّیُّ الْبَغْدَادِیُّ بِالْقُلْزُمِ ، قَالَ : حدَّثَنِی أَبِی رحمہ اللہ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِی مُحَمَّدُ بْنُ یُوسُ ، فَقَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ سُلَیْمَانُ بْنُ عَمْرٍو النَّخَعِیُّ ، حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ إیَاسٍ ، عَنْ عَلْقَمَۃَ ، قَالَ عَبْدُ اللہِ بْنُ عَبَّاسٍ : أَوَّلُ مَنِ اتَّخَذَ الْکَلْبَ نُوحٌ ، قَالَ : یَا رَبِ ، أَمَرْتَنِی أَنْ أَصْنَعَ الْفُلْکَ فَأَنَا فِی صِنَاعَتِہِ أَصْنَعُ أَیَّامًا ، فَیَجِیئُونِی بِاللَّیْلِ فَیُفْسِدُونَ کُلَّ مَا عَمِلْت ، أَفْسَدُوہُ فَمَتَی یَلْتَئِمُ لِی مَا أَمَرْتَنِی بِہِ ، قَدْ طَالَ عَلَیَّ أَمْرِی ، فَأَوْحَی اللَّہُ إلَیْہِ : یَا نُوحُ ، اتَّخِذْ کَلْبًا یَحْرُسُک ، فَاِتَّخَذَ نُوحٌ کَلْبًا ، فَکَانَ یَعْمَلُ بِالنَّہَارِ وَیَنَامُ بِاللَّیْلِ ، فَإِذَا جَائَہُ قَوْمُہُ لَیُفْسِدُوا مَا عَمِلَ یَنْبَحُہُمَ الْکَلْبُ فَیَنْتَبِہُ نُوحٌ ، فَیَأْخُذُ الْہِرَاوَۃَ لَہُمْ وَیَثِبُ عَلَیْہِمْ فَیَہْرُبُونَ مِنْہُ ، فَالْتَأَمَ لَہُ مَا أَرَادَ۔
(٣٧١٩٩) حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ کتا سب سے پہلے حضرت نوح نے پالا۔ انھوں نے کہا کہ اے میرے رب ! تو نے مجھے حکم دیا کہ میں کشتی بناؤں۔ میں دن بھر کشتی بناتا ہوں پھر وہ رات کو آکر اسے خراب کردیتے ہیں۔ جو کام میں کرتا ہوں وہ اسے خراب کردیتے ہیں۔ میرا کام مجھ پر بہت لمبا ہوگیا ہے ! اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح کی طرف وحی بھیجی کہ اے نوح ! اپنی کشتی کی حفاظت کے لیے ایک کتا رکھ لو۔ حضرت نوح نے ایک کتا رکھ لیا۔ حضرت نوح نے دن کو کام کیا اور رات کو سو گئے۔ جب ان کی قوم کے نافرمان لوگ کشتی کو خراب کرنے آئے تو کتا بھونکنے لگا۔ اس پر حضرت نوح جاگ گئے۔ اور ان پر ٹوٹ پڑے جس سے وہ سب لوگ بھاگ گئے۔ اس طرح حضرت نوح اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے۔