(۳۷۲۱۹) حَدَّثَنَا عَبَّادٌ ، عَنْ حُصَیْنٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِیرٍ ، یَقُولُ : أَعْطَانِی أَبِی عَطِیَّۃً ، فَقَالَتْ أُمِّی عَمْرَۃُ بِنْتُ رَوَاحَۃَ : لاَ أَرْضَی حَتَّی تُشْہِدَ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَأَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنِّی أَعْطَیْتُ ابْنِی مِنْ عَمْرَۃَ عَطِیَّۃً ، فَأَمَرَتْنِی أَنْ أُشْہِدَک ، قَالَ : أَعْطَیْتَ کُلَّ وَلَدِکَ مِثْلَ ہَذَا ؟ قَالَ : لاَ ، قَالَ : فَاتَّقُوا اللَّہَ ، وَاعْدِلُوا بَیْنَ أَوْلاَدِکُمْ۔
(٣٧٢١٩) حضرت شعبی کہتے ہیں کہ میں نے نعمان بن بشیر کو کہتے سُنا کہ میرے والد نے مجھے کوئی عطیہ دیا تو میری والد عمرہ بنت رواحہ نے کہا : جب تک تم اس پر نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گواہ نہ بنا لو میں (اس پر) راضی نہ ہوں گی۔ حضرت نعمان کہتے ہیں کہ وہ (میرے والد) نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میں نے اپنے بیٹے کو جو عمرہ سے ہے کوئی عطیہ دیا ہے اور اس نے مجھے (اس پر) آپ کو گواہ بنانے کا کہا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم نے اپنے ہر بیٹے کو ایسا عطیہ دیا ہے ؟ انھوں نے کہا : نہیں ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد میں عدل کرو۔