(۳۷۲۴۹) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَن بْنَ أَبِی عَلْقَمَۃَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللہِ بْنَ مَسْعُودٍ ، قَالَ : أَقْبَلْنَا مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنَ الْحُدَیْبِیَۃِ فَذَکَرُوا أَنَّہُمْ نَزَلُوا دَہَاسًا مِنَ الأَرْضِ ، یَعْنِی بِالدَّہَاسِ الرَّمْلَ ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ یَکْلَؤُنَا ؟ قَالَ : فَقَالَ بِلاَلٌ : أَنَا ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِذًا نَنَامُ ، قَالَ : فَنَامُوا حَتَّی طَلَعَتِ الشَّمْسُ ، قَالَ: فَاسْتَیْقَظَ أُنَاسٌ ، فِیہِمْ فُلاَنٌ وَفُلاَنٌ وَفِیہِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، قَالَ : فَقُلْنَا : اِہْضِبُوا ، یَعْنِی تَکَلَّمُوا ، قَالَ : فَاسْتَیْقَظَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : افْعَلُوا کَمَا کُنْتُمْ تَفْعَلُونَ ، قَالَ : فَفَعَلْنَا ، قَالَ : فَقَالَ : کَذَلِکَ لِمَنْ نَامَ ، أَوْ نَسِیَ۔
(٣٧٢٤٩) حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ ہم نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حدیبیہ سے آ رہے تھے صحابہ بیان کرتے ہیں کہ وہ ایک ریت کے ٹیلے پر اترے، ابن مسعود کہتے ہیں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کون ہماری حفاظت کرے گا ؟ راوی کہتے ہیں کہ حضرت بلال نے کہا : میں کروں گا ! تو نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر تو ہم سوتے ہیں راوی کہتے ہیں کہ سب لوگ سوئے رہے یہاں تک کہ سورج طلوع ہوگیا، راوی کہتے ہیں : چند لوگ بیدار ہوگئے ، جن میں فلاں ، فلاں تھے اور انہی میں عمر بن خطاب بھی تھے ، کہتے ہیں کہ پھر ہم نے کہا : باتیں کرو، راوی کہتے ہیں کہ پھر نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی بیدار ہوگئے اور آپ نے فرمایا : تم جیسے کرتے تھے ویسے ہی کرو، راوی کہتے ہیں کہ پھر ہم نے کیا (یعنی نماز پڑھی) راوی کہتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو کوئی نماز بھول جائے یا سویا رہے تو وہ ایسے ہی کرے۔