(۳۷۲۸۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی، عَنْ عِیسَی، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی لَیْلَی ، عَنْ جَدِّہِ أَبِی لَیْلَی، قَالَ: کُنَّا عِنْدَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جُلُوسًا ، فَجَائَ الْحُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ یَحْبُو حَتَّی جَلَسَ عَلَی صَدْرِہِ، فَبَالَ عَلَیْہِ ، قَالَ : فَابْتَدَرْنَاہُ لِنَأْخُذَہُ ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : ابْنِی ابْنِی ، ثُمَّ دَعَا بِمَائٍ ، فَصَبَّہُ عَلَیْہِ۔
- وذُکِرَ أَنَّ أَبَا حَنِیفَۃَ قَالَ : یُغْسَلُ۔
(٣٧٢٨١) حضرت ابو لیلیٰ سے روایت ہے کہ ہم نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ حضرت حسین بن علی سرکتے ہوئے آئے یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سینہ اطہر پر بیٹھ گئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر پیشاب کردیا۔ راوی کہتے ہیں ہم نے جلدی سے آگے بڑھ کر حضرت حسین کو پکڑنا چاہا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرا بیٹا ! میرا بیٹا ! پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پانی منگوایا اور اس پر بہا دیا۔
اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ : اسے دھویا جائے گا۔