(۳۷۳۳۶) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ أَبِی بِشْرٍ ، عَنْ أَبِی عُمَیْرِ بْنِ أَنَسٍ ، قَالَ : حدَّثَنِی عُمُومَتِی مِنَ الأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أُغْمِیَ عَلَیْنَا ہِلاَلُ شَوَّالٍ ، فَأَصْبَحْنَا صِیَامًا ، فَجَائَ رَکْبٌ مِنْ آخِرِ النَّہَارِ فَشَہِدُوا عِنْدَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہُمْ رَأَوْا الْہِلاَلَ بِالأَمْسِ ، فَأَمَرَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یُفْطِرُوا ، وَأَنْ یَخْرُجُوا إِلَی عِیدِہِمْ مِنَ الْغَدِ۔
- وذُکِرَ أَنَّ أَبَا حَنِیفَۃَ قَالَ : لاَ یَخْرُجُونَ مِنَ الْغَدِ۔
(٣٧٣٣٦) حضرت عمیر بن انس بیان کرتے ہیں کہ مجھے میرے انصاری چچاؤں نے جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ میں سے تھے۔ بیان کیا کہ ہم پر شوال کا چاند (بادل وغیرہ کی وجہ سے) چھپا رہ گیا اور ہم نے صبح کو روزہ رکھ لیا۔ آخر دن کو سواروں کی ایک جماعت آئی اور اس نے نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر گواہی دی کہ انھوں نے کل چاند دیکھا تھا۔ تو نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو افطار کرنے کا حکم دیا اور دوسرے دن عید کے لیے نکلنے کا حکم دیا۔
اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ : دوسرے دن لوگ عید کو نہیں نکلیں گے۔