(۳۷۳۷۲) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَبِی عُثْمَانَ ، قَالَ : حدَّثَنَا أَبُو رَجَائٍ مَوْلَی أَبِی قِلاَبَۃَ ، عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ ، عَنْ أَنَسٍ ؛ أَنَّ نَفَرًا مِنْ عُکْلٍ ثَمَانِیَۃً ، قَدِمُوا عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَبَایَعُوہُ عَلَی الإِسْلاَمِ ، فَاسْتَوْخَمُوا الأَرْضَ ، وَسَقِمَتْ أَجْسَامُہُمْ ، فَشَکَوْا ذَلِکَ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَلاَ تَخْرُجُونَ مَعَ رَاعِینَا فِی إبِلِہِ فَتُصِیبُوا مِنْ أَبْوَالِہَا وَأَلْبَانِہَا؟ قَالُوا: بَلَی، فَخَرَجُوا فَشَرِبُوا مِنْ أَبْوَالِہَا وَأَلْبَانِہَا۔
- وَذُکِرَ أَنَّ أَبَا حَنِیفَۃَ کَرِہَ شُرْبَ أَبْوالِ الإِبِلِ۔
(٣٧٣٧٢) حضرت انس سے روایت ہے کہ عکل سے آٹھ افراد نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور انھوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسلام پر بیعت کی ۔ انھیں مدینہ کی زمین موافق نہ آئی اور ان کے جسم بیمار ہوگئے تو انھوں نے نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس بات کی شکایت کی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم ہمارے چرواہے کے ساتھ اس کے اونٹوں میں نہیں چلے جاتے تاکہ تم اونٹوں کے پیشاب اور دودھ پیو ؟ انھوں نے کہا : کیوں نہیں ! پس وہ لوگ چلے گئے اور انھوں نے اونٹوں کے دودھ اور پیشاب کو پیا۔
اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ : وہ اونٹوں کے پیشاب کو مکروہ جانتے تھے۔