(۳۷۴۱۶) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی ، عَنِ الْحَکَمِ ، قَالَ : بَعَثَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُعَاذًا ، وَأَمَرَہُ أَنْ یَأْخُذَ مِنْ کُلِّ ثَلاَثِینَ تَبِیعًا ، أَوْ تَبِیعَۃً ، وَمِنْ کُلِّ أَرْبَعِینَ مُسِنَّۃً ، فَسَأَلُوہُ عَنْ فَضْلِ مَا بَیْنَہُمَا ، فَأَبَی أَنْ یَأْخُذَ حَتَّی سَأَلَ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : لاَ تَأْخُذْ شَیْئًا۔
(٣٧٤١٦) حضرت حکم سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت معاذ کو یمن بھیجا اور انھیں حکم دیا کہ وہ (زکوۃ کی وصولی) ہر تیس گائیوں پر ایک مونث یا مذکر تبیعہ (ایک سالہ بچہ) کو لے۔ اور ہر چالیس گائیوں پر ایک دو سالہ گائے کا بچہ لے۔ لوگوں نے آپ سے ان دونوں کے درماان کے بابت سوال کیا تو انھوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھنے تک کچھ بھی لینے سے انکار فرمایا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم (دو نصابوں کے مابین پر) کچھ نہ وصول کرو۔