(۳۷۴۲۱) حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِیسَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : کُنَّا فِی الْمَغَازِی لاَ یُؤَمَّرُ عَلَیْنَا إِلاَّ أَصْحَابُ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَکُنَّا بِفَارِسَ عَلَیْنَا رَجُلٌ مِنْ مُزَیْنَۃَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَغَلَتْ عَلَیْنَا الْمَسَانُّ ، حَتَّی کُنَّا نَشْتَرِی الْمُسِنَّ بِالْجَذَعَتَیْنِ وَالثَّلاَثِ ، فَقَامَ فِینَا ہَذَا الرَّجُلُ فَقَالَ : إِنَّ ہَذَا الْیَوْمَ أَدْرَکَنَا فَغَلَتْ عَلَیْنَا الْمَسَانُّ ، حَتَّی کُنَّا نَشْتَرِی الْمُسِنَّ بِالْجَذَعَتَیْنِ وَالثَّلاَثِ ، فَقَامَ فِینَا النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ الْمُسِنَّ یُوفِی مِمَّا یُوفِی مِنْہُ الثَّنِیُّ۔ (احمد ۳۶۸۔ حاکم ۲۲۶)
(٣٧٤٢١) حضرت عاصم بن کلیب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم جہاد میں ہوتے تھے اور ہم پر صحابہ کرام میں سے ہی کوئی امیر ہوتا تھا ۔ پس ہم فارس میں تھے اور ہم قبیلہ مزینہ سے تعلق رکھنے والے ایک صحابی رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) امیر تھے۔ ہمارے پاس دو سالہ گائے کے بچے (قربانی کے لئے) مہنگے ہوگئے یہاں تک کہ ہم دو یا تین کے جذعہ (ایک سالہ یا ایک سالہ گائے) کے بدلہ میں ایک مُسِن (دو سالہ بچہ) خریدتے تھے ۔ تو یہ (صحابی رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) کھڑے ہوئے اور فرمایا : یہ دن ہم پر بھی آیا تھا کہ ہمیں دو سالہ بچے مہنگے مل رہے تھے یہاں تک کہ ہم (بھی) دو یا تین جذعہ دے کر مُسِن خریدتے تھے تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ مُسِنّ جانور اس جگہ پورا ہے جہاں مثنی پورا ہے۔