hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 37423

.

ابن أبي شيبة

37423
Ibn Abi Shaybah
(۳۷۴۲۴) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ عَائِشَۃَ ، قَالَتْ : خَرَجْنَا مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی حَجَّۃِ الْوَدَاعِ مُوَافِینَ لِہِلاَلِ ذِی الْحِجَّۃِ ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ أَرَاْدَ مِنْکُمْ أَنْ یُہِلَّ بِعُمْرَۃٍ فَلْیُہِلَ ، فَإِنِّی لَوْلاَ أَنِّی أَہْدَیْتُ لأَہْلَلْتُ بِعُمْرَۃٍ ، قَالَتْ : فَکَانَ مِنَ الْقَوْمِ مَنْ أَہَلَّ بِعُمْرَۃٍ ، وَمِنْہُمْ مَنْ أَہَلَّ بِحَجٍّ ، قَالَتْ : فَکُنْت أَنَا مِمَّنْ أَہَلَّ بِعُمْرَۃٍ ، قَالَتْ : فَخَرَجْنَا حَتَّی قَدِمْنَا مَکَّۃَ ، فَأَدْرَکَنِی یَوْمُ عَرَفَۃَ وَأَنَا حَائِضٌ ، لَمْ أَحِلَّ مِنْ عُمْرَتِی ، فَشَکَوْتُ ذَلِکَ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : دَعِی عُمْرَتَکَ، وَانْقُضِی رَأْسَک ، وَامْتَشِطِی ، وَأَہِلِّی بِالْحَجِّ ، قَالَتْ : فَفَعَلْتُ ، فَلَمَّا کَانَتْ لَیْلَۃُ الْحَصْبَۃِ وَقَدْ قَضَی اللَّہُ حَجَّنَا ، أَرْسَلَ مَعِی عَبْدَ الرَّحْمَن بْنَ أَبِی بَکْرٍ ، فَأَرْدَفَنِی وَخَرَجَ بِی إِلَی التَّنْعِیمِ ، فَأَہْلَلْتُ بِعُمْرَۃٍ ، فَقَضَی اللَّہُ حَجَّنَا وَعُمْرَتَنَا ، لَمْ یَکُنْ فِی ذَلِکَ ہَدْیٌ ، وَلاَ صَدَقَۃٌ ، وَلاَ صَوْمٌ۔ (بخاری ۳۱۷۔ مسلم ۸۷۲)
(٣٧٤٢٤) حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ ذی الحجہ کے چاند پر حجۃ الوداع میں نکلے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے جو کوئی عمرہ کے لیے تلبیہ کہنا چاہتا ہو تو وہ تلبیہ کہہ لے۔ کیونکہ اگر میں ہدی کا جانور ساتھ نہ لایا ہوتا تو میں بھی عمرے کے لیے تلبیہ کہتا۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ قوم میں سے کچھ نے عمرے کے لیے تلبیہ کہا اور بعض نے حج کے لیے تلبیہ کہا۔ فرماتی ہیں مں ب عمرہ کا تلبیہ کہنے والوں میں تھی ۔ فرماتی ہیں کہ ہم چلے یہاں تک کہ مکہ آپہنچے۔ مجھ پر یوم عرفہ اس حالت میں آیا کہ میں حائضہ تھی۔ اور اپنے عمرہ سے بھی حلال نہیں ہوئی تھی۔ میں نے اس بات کی شکایت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنے عمرے کو چھوڑ دو اور اپنا سر کھول لو اور کنگھی کرلو اور حج کے لیے تلبیہ کہہ لو۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے یہ کام کیا پس جب ایام تشریق کے بعد والی رات آئی اور اللہ تعالیٰ نے ہمارا حج مکمل فرما دیا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے ساتھ عبد الرحمن بن ابی بکر کو بھیجا۔ انھوں نے مجھے اپنے ہمراہ لیا اور مجھے تنعیم کی طرف لے کر نکل گئے۔ پھر میں نے عمرہ کے لیے تلبیہ کہا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ہمارا حج اور عمرہ پورا فرمایا۔ اس میں ہدی، صدقہ اور روزہ (کچھ بھی) نہیں تھا۔