(۳۷۴۴۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشِ ، عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ ، عَنِ ابْنِ أَبْزَی ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ لِعَمَّارٍ: أَمَا تَذْکُرُ یَوْمَ کُنَّا فِی کَذَا وَکَذَا ، فَأَجْنَبْنَا ، فَلَمْ نَجِدَ الْمَائَ ، فَتَمَعَّکْنَا فِی التُّرَابِ ، فَلَمَّا قدِمْنَا عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَکَرْنَا ذَلِکَ لَہُ ، فَقَالَ : إِنَّمَا کَانَ یَکْفِیکُمَا ہَکَذَا ، وَضَرَبَ الأَعْمَشُ بِیَدَیْہِ ضَرْبَۃً ، ثُمَّ نَفَخَہُمَا ، ثُمَّ مَسَحَ بِہِمَا وَجْہَہُ وَکَفَّیْہِ۔
- وذُکِرَ أَنَّ أَبَا حَنِیفَۃَ قَالَ : ضَرْبَتَینِ ، لاَ تُجْزِئُہُ ضَرْبَۃٌ۔
(٣٧٤٤٥) حضرت ابن ابزی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر نے حضرت عمار سے کہا : کیا تمہیں وہ دن یاد ہے جب ہم فلاں فلاں مقام پر تھے اور ہم جُنبی ہوگئے تھے۔ ہم نے پانی نہیں پایا تو ہم مٹی میں لوٹ پوٹ ہوگئے پھر جب ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ہم نے یہ بات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ذکر کی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم دونوں کو یہی کافی تھا۔ (یہ کہہ کر) راوی اعمش نے اپنے دونوں ہاتھوں ایک مرتبہ (مٹی پر) مارا پھر ان دونوں کو پھونکا پھر ان کے ذریعہ سے اپنے چہرے اور ہتھیلیوں کو مسح فرمایا۔
اور (امام) ابوحنیفہ کا قول یہ ذکر کیا گیا ہے کہ : دو ضربیں ہیں۔ ایک ضرب کافی نہیں ہوتی۔