(۳۷۴۹۳) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ، قَالَ : کَانَ صَفْوَانُ بْنُ أُمَیَّۃَ مِنَ الطُّلَقَائِ ، فَأَتَی رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَنَاخَ رَاحِلَتَہُ ، وَوَضَعَ رِدَائَہُ عَلَیْہَا ، ثُمَّ تَنَحَّی لِیَقْضِیَ الْحَاجَۃَ ، فَجَائَ رَجُلٌ فَسَرَقَ رِدَائَہُ ، فَأَخَذَہُ فَأَتَی بِہِ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَأَمَرَ بِہِ أَنْ تُقْطَعَ یَدُہُ ، قَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، تَقْطَعُہُ فِی رِدَائٍ ؟ أَنَا أَہَبُہُ لَہُ ، قَالَ : فَہَلاَّ قَبْلَ أَنْ تَأْتِیَنِی بِہِ۔
(٣٧٤٩٣) حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ صفوان بن امیہ طلقاء میں سے تھے۔ یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی سواری کو بٹھایا اور اپنی چادر کو اس پر رکھ دیا۔ پھر قضائے حاجت کے لیے ایک طرف ہوگئے۔ پس ایک آدمی آیا اور ان کی چادر چوری کرلی۔ انھوں نے اس کو پکڑ لیا اور اس کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے آئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس آدمی کے ہاتھ کو کاٹنے کا حکم ارشاد فرمایا : صفوان نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ ! ایک چادر (کی چوری) میں آپ اس کا ہاتھ کاٹ رہے ہیں ؟ میں یہ چادر اس کو ہدیہ کرتا ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کو میرے پاس لانے سے پہلے کیوں نہ اس کو ہدیہ کردیا۔