(۳۷۵۱۳) حَدَّثَنَا یَزِیدُ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ؛ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ یَحْیَی بْنِ حِبَّانَ أَخْبَرَہُ ، عَنِ ابْنِ مُحَیْرِیزٍ الْقُرَشِیِّ ، أَنَّہُ أَخْبَرَہُ ، عَنِ الْمُخْدَجِیِّ ، رَجُلٌ مِنْ بَنِی کِنَانَۃَ ، أَنَّہُ أَخْبَرَہُ ، أَنَّ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ کَانَ بِالشَّامِ یُکَنَّی أَبَا مُحَمَّدٍ ، وَکَانَتْ لَہُ صُحْبَۃٌ ، فَأَخْبَرَہُ أَنَّ الْوِتْرَ وَاجِبٌ ، فَذَکَرَ الْمُخْدَجِیُّ ، أَنَّہُ رَاحَ إِلَی عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ فَأَخْبَرَہُ ، فَقَالَ عُبَادَۃُ : کَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ ، سَمِعْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ : خَمْسُ صَلَوَاتٍ کَتَبَہُنَّ اللَّہُ عَلَی الْعِبَاد ، مَنْ جَائَ بِہِنَّ لَمْ یُضَیِّعْ مِنْ حَقِّہِنَّ شَیْئًا ، جَائَ وَلَہُ عِنْدَ اللہِ عَہْدٌ أَنْ یُدْخِلَہُ الْجَنَّۃَ ، وَمَنَ انْتَقَصَ مِنْ حَقِّہِنَّ ، جَائَ وَلَیْسَ لَہُ عِنْدَ اللہِ عَہْدٌ ، إِنْ شَائَ عَذَّبَہُ ، وَإِنْ شَائَ أَدْخَلَہُ الْجَنَّۃَ۔
(٣٧٥١٣) بنو کنانہ کے ایک صاحب حضرت مخدجی بیان کرتے ہیں کہ شام میں ایک انصاری تھے جنہیں صحبت بھی حاصل تھی ۔ اور جن کی کنیت ابو محمد تھی۔ انھوں نے بیان کیا کہ یہ وتر واجب ہے۔ مخدجی ذکر کرتے ہیں کہ وہ (مخدجی) حضرت عبادہ بن صامت کے پاس گئے اور انھیں یہ بات (وجوب وتر) بیان کی تو حضرت عبادہ نے فرمایا : ابو محمد نے غلط بات کہی ہے۔ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سُنا ہے کہ پانچ نمازیں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر فرض فرمایا ہے۔ جو شخص انھیں یوں ادا کرے گا (لے کر آئے گا) کہ ان کے حقوق میں سے کچھ بھی ضائع نہ کیا ہو تو وہ اس حال میں آئے گا کہ اس کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ عہد ہے کہ وہ اس کو جنت میں داخل کرے گا۔ اور جو شخص ان نمازوں کے حقوق میں سے کچھ کمی کرے گا تو وہ اس حال میں آئے گا کہ اس کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی عہد نہیں ہے۔ اگر اللہ چاہے گا تو اس کو عذاب دے گا اور اگر اللہ چاہے گا تو اس کو جنت میں داخل فرمائے گا۔