(۳۷۵۸۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَیَّاشِ بْنِ أَبِی رَبِیعَۃَ ، عَنْ حَکِیمِ بْنِ حَکِیمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ حُنَیْفٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَیْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : أَمَّنِی جِبْرِیلُ عِنْدَ الْبَیْتِ مَرَّتَیْنِ ، فَصَلَّی بِی الْعِشَائَ حِینَ غَابَ الشَّفَقُ ، وَصَلَّی بِی مِنَ الْغَدِ الْعِشَائَ ثُلُثَ اللَّیْلِ الأَوَّلِ ، وَقَالَ : ہَذَا الْوَقْتُ وَقْتُ النَّبِیُّینَ قَبْلَک ، الْوَقْتُ بَیْنَ ہَذَیْنِ الْوَقْتَیْنِ۔
(٣٧٥٨٦) حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : جبرائیل نے مجھے بیت اللہ کے پاس دو مرتبہ امامت کروائی ہے۔ پس جب شفق غائب ہوگیا تو انھوں نے مجھے عشاء کی نماز پڑھائی۔ اور اگلے دن انھوں نے مجھے رات کے پہلے ثلث پر عشاء کی نماز پڑھائی اور فرمایا : یہ وقت (نماز) آپ سے پہلے انبیاء کا وقت (نماز) ہے۔ اور انہی دو (مقررہ) اوقات کے درمیان (عشاء کا) وقت ہے۔