(۳۷۶۰۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْن مُبَارَکِ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ یَزِیدَ ، قَالَ : سَمِعْتُ خَالِدَ بْنَ أَبِی عِمْرَانَ ،یُحَدِّثُ عَنْ حَنَشٍ، عَنْ فَضَالَۃَ بْنِ عُبَیْدٍ ، قَالَ : أُتِیَ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ خَیْبَرَ بِقِلاَدَۃٍ فِیہَا خَرَزٌ مُعَلَّقَۃٌ بِذَہَبٍ ، ابْتَاعَہَا رَجُلٌ بِسَبْعَۃِ دَنَانِیرَ ، أَوْ بِتِسْعَۃِ دَنَانِیرَ ، فَأُتِیَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ ذَلِکَ لَہُ ، فَقَالَ : لاَ، حَتَّی تُمَیِّزَ مَا بَیْنَہُمَا ، قَالَ : إِنَّمَا أَرَدْتُ الْحِجَارَۃَ ، قَالَ : لاَ ، حَتَّی تُمَیِّزَ مَا بَیْنَہُمَا ، قَالَ : فَرَدَّہُ حَتَّی مَیَّزَ۔
(٣٧٦٠٢) حضرت فضالہ بن عبید فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں خیبر کے دن ایک ہار لایا گیا جس میں سونے کے ساتھ لٹکے ہوئے موتی تھے۔ اس ہار کو ایک آدمی نے سات یا نو دیناروں کے عوض خریدا۔ پس یہ ہار آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لایا گیا اور اس کی خریداری کا تذکرہ بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے کیا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں ! یہاں تک کہ دونوں کو جُدا جُدا کردیا جائے۔ کسی نے عرض کیا۔ آپ کا ارادہ پتھر کے بارے میں ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں ! یہاں تک کہ یہ دونوں جُدا جُدا ہوں۔ راوی کہتے ہیں اس نے یہ ہار واپس کردیا یہاں تک کہ (انہیں) جُدا کردیا گیا۔